Youth & Education

کائناتی ڈائمنشنز: سائنس اسلام اور روح کے چھپے راستے

کائناتی ڈائمنشنز: سائنس اسلام اور روح کے چھپے راستے

مصنف: محمد کلیم فیدالیس

کائنات کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ صرف وہی مادی دنیا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے یا اس کے پیچھے چھپی ہوئی کچھ ایسی ڈائمنشنز اور راستے بھی ہیں جن تک پہنچنے سے انسانی عقل اب بھی قاصر ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو صدیوں سے فلاسفہ، سائنسدانوں اور روحانی پیشواؤں کے درمیان زیرِ بحث رہے ہیں۔ اگر ہم جدید طبیعیات (موڈرن فزکس) اور اسلامی مابعدالطبیعات (میٹا فزکس) کا گہرا مطالعہ کریں تو کائنات کی تہوں کے بارے میں ایسے حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں جو انسانی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ 

 ڈائمنشنز کا سائنسی اور ریاضیاتی تصور

طبیعیات کی رو سے ڈائمنشنز کا مطلب وہ سمتیں یا ڈائمنشنز ہیں جن میں مادہ اور وقت حرکت کرتے ہیں۔ عام انسانی زندگی تین مادی ابعاد (تھری ڈی یعنی لمبائی چوڑائی اور اونچائی تک محدود ہے۔ البرٹ آئن سٹائن نے اپنے نظریۂ اضافیت میں چوتھی جہت کے طور پر وقت کو متعارف کروایا اور ثابت کیا کہ زمان و مکان (سپیس ٹائم) کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم جدید فزکس کی سٹرنگ تھیوری کائنات کے ریاضیاتی نظام کو سمجھانے کے لیے گیارہ ڈائمنشنز کا تصور پیش کرتی ہے۔ ان میں سے سات ڈائمنشنز اتنی مائیکروسکوپک اور آپس میں لپٹی ہوئی ہیں کہ مادی آلات سے ان کا مشاہدہ ناممکن ہے لیکن کائنات کے ذرات کا وجود انہی مخفی جہتوں کا مرہونِ منت ہے۔ 

  قرآن کا تصورِ کائنات اور سات زمینوں کا راز 

اسلام کائنات کو محض اس مادی دائرے تک محدود نہیں رکھتا۔ قرآنِ پاک کی سورۃ الطلاق کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

 اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینوں میں سے بھی انہی کی مانند (مِثْلَهُنَّ)۔ ان کے درمیان امر نازل ہوتا ہے 

یہاں لفظ مِثْلَهُنَّ اور یَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ یعنی امر کا نازل ہونا ایک بہت بڑے کائناتی راز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات میں ہماری زمین جیسی دیگر زمینیں یا متوازی دنیایں (پیرلل ورلڈ) موجود ہیں جہاں زندگی اور شعور کا وجود ہے۔

اس نظریے کی سب سے بڑی تائید جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے اس قول سے ہوتی ہے جہاں انہوں نے فرمایا کہ ہر زمین پر ہماری زمین کی طرح کی مخلوق اور وہاں کے احوال کے مطابق انبیاء کا سلسلہ موجود ہے۔ چونکہ قرآن پاک کے مطابق روح اللہ کا امر ہے اور یہ امر تمام زمینوں کے درمیان یکساں طور پر اترتا ہے اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ تمام ڈائمنشنز اور زمینوں کو جوڑنے والی اصل قوت شعور اور روح کی توانائی ہے۔ 

  آسمان کے راستے اور کائناتی شارٹ کٹس  

جب ہم ڈائمنشنز کے درمیان سفر یا ٹائم ٹریول کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف سائنس فکشن نہیں رہتا۔ بابِ علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ایک مشہور خطبہ کائنات کے ان پوشیدہ راستوں پر روشنی ڈالتا ہے جہاں آپؑ نے فرمایا

 مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں کیونکہ میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمان کے راستوں کو جانتا ہوں۔ 

آسمان کے ان راستوں سے مراد محض ستارے نہیں بلکہ وہ کائناتی گزرگاہیں اور دروازے ہیں جنہیں جدید فزکس وارم ہولز یا کائناتی شارٹ کٹس کہتی ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں زمان و مکان (سپیس ٹائم) کی حدود ٹوٹ جاتی ہیں اور کائنات کے ایک حصے سے دوسرے حصے یا ایک ڈائمنشن سے دوسری ڈائمنشن تک لمحوں میں سفر ممکن ہو جاتا ہے۔ سفرِ معراجِ مصطفیٰ ﷺ زمان و مکان کے اسی مادی قید سے آزاد ہونے اور اعلیٰ ترین ابعاد کے سفر کا سب سے بڑا تاریخی و ایمانی ثبوت ہے۔ 

  روح اور جسم: دو مختلف ڈائمنشنز کا ملاپ

اس پورے نظام میں سب سے حیرت انگیز چیز خود انسان کا اپنا وجود ہے۔ انسانی جسم ہماری اس تیسری مادی  ڈائمنشن کا حصہ ہے جبکہ انسانی روح اس مادی ڈائمنشن کی پابند نہیں ہے۔ روح دراصل اعلیٰ ڈائمنشن کی مخلوق ہے جسے ایک عارضی وقت کے لیے اس مادی جسم کے زندان میں قید کیا گیا ہے۔

جب انسان سوتا ہے تو روح کا وہ حصہ جو شعور اور سفر سے تعلق رکھتا ہے اس تھری ڈی دنیا کی حدود کو توڑ کر غیب یا خوابوں کی ڈائمنشن میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ اس کا حیاتیاتی تعلق (کوانٹم لنک) جسم سے برقرار رہتا ہے تاکہ دل اور سانسیں چلتی رہیں۔ لیکن جیسے ہی موت واقع ہوتی ہے یہ مادی لنک ہمیشہ کے لیے کٹ جاتا ہے اور روح اپنے اصل وطن یعنی زمان و مکان سے آزاد عالمِ برزخ کی لاشمار ڈائمنشز کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ 

 حاصلِ کلام 

سائنس اور اسلام کے ان موازنوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم ایک انتہائی متحرک اور کثیر الجہتی (ملٹی ڈائمنشنل) کائنات کا حصہ ہیں۔ سائنس جہاں ریاضی کے فارمولوں کے ذریعے ان ڈائمنشنز کو چھونے کی کوشش کر رہی ہے وہیں اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی غیب امرِ الٰہی اور سات آسمانوں کی صورت میں ان لامتناہی جہتوں کا نقشہ کھینچ دیا تھا۔ کائنات محض مٹی اور پتھر کا ڈھیر نہیں بلکہ یہ خالقِ کائنات کی تخلیق کا ایک ایسا جاری اور ساری عمل ہے جس کے اسرار سے پردہ اٹھانا ابھی باقی ہے۔


Comments (0)