مقالہ: عورتوں کا ہاتھ کاٹنا – بے خودی یا حلفیہ گواہی
مقالہ: عورتوں کا ہاتھ کاٹنا – بے خودی یا حلفیہ گواہی؟
(قرآنی لغت اور قدیم تاریخ کی روشنی میں ایک نیا زاویہ)
سوال 1: کیا قرآن نے کہیں بھی حضرت یوسف (ع) کے ظاہری حسن (Physical Beauty) کا ذکر کیا ہے؟
جواب: یہ سن کر شاید بہت سے لوگ حیران ہوں گے کہ پورے قرآن میں، شروع سے لے کر آخر تک، حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے کہیں بھی "حُسْن" (خوبصورتی) یا "جَمَال" کا لفظ استعمال نہیں ہوا!
قرآن ہمیشہ ان کے کردار، علم، اور روحانی وجاہت کی بات کرتا ہے: "آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا" (ہم نے اسے علم و حکمت دی)، "إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ" (وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے)۔
عورتوں کی محفل میں بھی قرآن نے یہ نہیں کہا کہ انہوں نے یوسف کا 'حسن' دیکھا۔ بلکہ لفظ استعمال ہوا ہے: "فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ" (پس جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو اس کی 'عظمت/بڑائی' کو تسلیم کیا)۔ 'اکبرنہ' کا مطلب دل میں رعب، ہیبت اور روحانی وقار کا بیٹھ جانا ہے۔
(نوٹ: احادیث میں ان کے حسن کا ذکر ضرور ہے، لیکن قرآن کا فوکس ان کا ظاہری حسن نہیں بلکہ ان کی روحانی پاکیزگی اور عظمتِ کردار تھا۔)
سوال 2: ہاتھ کاٹنے کو 'حلف' (Oath) ماننے کے کیا قرآنی اور لغوی دلائل ہیں؟
اس نظریے (Blood Oath) کے حق میں 3 بڑی ٹھوس دلیلیں موجود ہیں:
دلیل نمبر 1: لغت اور گرامر (قَطَّعْنَ کا استعمال)
قرآن نے یہ نہیں کہا کہ چھری پھسل گئی یا اتفاقاً کٹ لگ گیا۔ قرآن کا لفظ ہے: "وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ"۔
عربی گرامر میں یہ لفظ بابِ 'تفعیل' سے ہے۔ بابِ تفعیل میں "تکثیر" (شدت اور ارادہ) پایا جاتا ہے۔
اگر غلطی سے معمولی کٹ لگتا تو عربی میں "جَرَحْنَ" (انہوں نے زخمی کر لیا) یا صرف "قَطَعْنَ" (بغیر شد کے) آتا۔ "قَطَّعْنَ" کا مطلب ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر، پورے ارادے اور شدت کے ساتھ اپنے ہاتھوں پر کٹ لگائے۔
دلیل نمبر 2: قدیم تہذیبوں کی بشریات (Anthropological Evidence)
قدیم مصر اور سامی تہذیبوں (Ancient Semitic Cultures) میں یہ رسم عام تھی کہ جب کسی بہت بڑی سچائی کی گواہی دینی ہو، یا کسی کو اپنا آقا/سردار ماننا ہو، تو لوگ اپنے خون کا حلف (Blood Covenant / Blood Oath) اٹھاتے تھے۔ اپنے ہاتھ یا کلائی پر کٹ لگا کر خون نکالنا اس بات کی علامت تھا کہ "ہم جو کہہ رہے ہیں اس پر ہماری جان اور خون کی قسم ہے"۔
دلیل نمبر 3: حلفیہ الفاظ ("مَلَكٌ كَرِيمٌ")
ہاتھوں پر کٹ لگانے کے فوراً بعد عورتوں نے جو جملہ بولا، وہ کسی عاشقانہ بے خودی کا جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک خالصتاً 'پارسائی کی گواہی' تھا۔
عورتوں نے کہا: "حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ"
(اللہ کی پناہ! یہ عام بشر نہیں، یہ تو معزز فرشتہ ہے!)
فرشتہ کیوں کہا؟ فرشتے شہوت، نفسانی خواہشات اور گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔ عورتوں نے ہاتھ کاٹ کر (Blood Oath لے کر) یہ گواہی دی کہ: "اے زلیخا! تو اس پر جو الزام لگا رہی ہے وہ غلط ہے، یہ عام انسانوں جیسی ہوس نہیں رکھتا، اس کا کردار تو فرشتوں جیسا پاک اور معصوم ہے!"
نتیجہ (Conclusion):
جب زلیخا نے مصر کی ایلیٹ عورتوں کے سامنے یوسف (ع) کو پیش کیا، تو ان عورتوں پر یوسف کی پاکیزگی، حیا اور نبوت کے نور کا ایسا رعب (أَكْبَرْنَهُ) پڑا کہ انہوں نے اس کی عصمت پر ایمان لاتے ہوئے، مصری رسم کے مطابق اپنے ہاتھوں پر کٹ لگا کر حلف لیا (Blood Oath) کہ یہ شخص گناہگار نہیں ہو سکتا، یہ تو پاکیزہ فرشتہ ہے۔
اور یہی وہ حلفیہ گواہی تھی جس کی بنیاد پر سالوں بعد بادشاہِ مصر نے ان عورتوں کو عدالت میں بلا کر پوچھا تھا کہ تمہاری وہ گواہی کیا تھی؟ اور انہوں نے اسی گواہی کو دہرایا۔
Comments (0)